ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کشمیر میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے پانچ سال مکمل

کشمیر میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے پانچ سال مکمل

Sun, 08 Sep 2019 12:26:34    S.O. News Service

سری نگر،8؍ستمبر (ایس او نیوز؍یو این آئی)  وادی کشمیر میں ہفتہ کی صبح جب کالے اور گھنے بادل آسمان پر چھا گئے تو اہلیان وادی پانچ سال قبل اسی دن آنے والے تباہ کن سیلاب کی یادیں تازہ کرنے لگے۔ سری نگر کے مضافاتی علاقہ حیدرپورہ سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر جن کی تاریخی لالچوک میں دکان ہے، نے بتایا کہ 7 ستمبر 2014ء کو آنے والے تباہ کن سیلاب کی تباہ کاریوں کو کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔

انہوں نے کہاکہ ’بارش اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے لیکن ہم اُس شہر میں رہتے ہیں جہاں محض ایک گھنٹے کی بارش سیلاب کا سبب بنتی ہے۔ آپ نے گزشتہ ماہ ہی دیکھا کہ کس طرح آدھے گھنٹے کی بارش کے بعد ہی لالچوک ڈوب گیا‘۔ انہوں نے مزید کہا: 'لالچوک میں ہماری دکانیں 5 اگست سے مسلسل بند ہیں۔ ہمارا کاروبار تو ختم ہوچکا ہے لیکن اب یہ ڈر ستا رہا ہے کہ کسی دن زیادہ بارش ہوئی تو دکانوں میں موجود ہمارا مال بھی خراب ہوجائے گا'۔

وادی کشمیر میں تباہ کن سیلاب کی پانچویں برسی ایک ایسے وقت آئی ہے جب وادی میں مرکزی حکومت کی طرف سے 5 اگست کو لئے گئے فیصلوں جن کے تحت ریاست کو خصوصی درجہ عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے ہٹائی گئی اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، کے بعد سے جاری ہڑتال، پابندیوں بے چینی کا سلسلہ 34 ویں روز میں داخل ہوگیا۔

سری نگر کے گائو کدل علاقے سے تعلق رکھنے والے محمد لطیف نامی ایک شہری نے بتایا کہ شہر میں جب بھی بارش ہوتی ہے تو سیلاب کا خطرہ فوراً پیدا ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا: 'شہر میں بارش کے پانی کی نکاسی کا کوئی نظام نہیں ہے۔ ڈرینیج سسٹم ناکارہ ہیں۔ دریائے جہلم کی سطح ہر گزرتے دن کے ساتھ بلند ہورہی ہے۔ سنہ 2014ء کے سیلاب کے بعد مرکزی حکومت نے جس مالی پیکیج کا اعلان کیا تھا، وہ پیسے اگر خرچ کئے گئے تو کہاں خرچ کئے گئے؟ زمینی سطح پر تو کچھ بھی نہیں بدلا ہے'۔

سری نگر کے مضافاتی علاقہ بمنہ کے ایک رہائشی غلام مصطفی نے سیلاب کی تلخ یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا: 'مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بارش کا سلسلہ یکم ستمبر کو شروع ہوا تھا۔ بمنہ ایک نشیبی علاقہ ہے۔ جب بارش کا سلسلہ بغیر رکے جاری رہا تو پانی کی سطح میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا گیا جس کے نتیجے میں 4 ستمبر سے ہی ہماری راتوں کی نیند اڑ گئی تھی۔ بالآخر 7 ستمبر کی صبح کو میں نے اپنے مسکن کو پانی میں ڈوبا ہوا پایا۔ میں اور میرے کنبے کے اراکین بعد ازاں ایک کشتی کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل ہوئے تھے'۔

جہاں ستمبر 2014 ء کو آج ہی کے دن دریائے جہلم کی قہر آمیز موجوں نے کشمیر کے بیشتر علاقوں کو اپنی آغوش میں لے کر کھنڈرات میں تبدیل کردیا تھا وہیں آج دریائے جہلم کا پانی بالکل خاموش ہے اور ایسا لگتا نہیں کہ اس نے آج سے ٹھیک پانچ برس قبل ایک بڑا قہر برپا کیا ہو جس کے نتیجے میں درجنوں انسانی جانیں ضائع ہونے کے علاوہ تین لاکھ رہائشی مکانات، تجارتی ادارے اور دیگر ڈھانچے تباہ ہوگئے ہوں۔


Share: